Aug 10, 2020 11:26 pm
views : 227
Location : Supreme Court of Pakistan
Karachi- K-electric Management Should Be Put On ECL: CJ
کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے ،چیف جسٹس
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اور کے الیکٹرک کی پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔
بل بورڈز گرنے کے معاملے کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے سی ای او کی طلب کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں ہے، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر چلے جاتے ہیں، کے الیکٹرک والے بھی یہاں مزے کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ کے الیکٹرک کی پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے، ہم حکم نامہ بھی جاری کریں گے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ 8 ، 10 لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں لیکن نیپرا کچھ نہیں کررہی اور نہ کسی کی اتنی ہمت کہ وہ کراچی کی بجلی بند کرے، چوڑیاں پہنی ہیں سب نے کیوں کہ ان کا پیسہ کھاتے ہیں، ہر فرد جو جاں بحق ہوتا ہے اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے اور کے الیکٹرک کے ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ایک بار پھر ہر قسم کے بل بورڈز ہٹانے کا حکم دے دیا۔، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ شاہراہ فیصل پر عمارتیں دیکھیں، اشتہار ہی اشتہار لگے ہوئے ہیں، سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔
کراچی کی اہم شاہراہوں پر بل بورڈز اور ہورڈنگ کی بھرمار، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اشتہاری دیواروں سے متعلق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ شاہراہ فیصل پر عمارتیں دیکھیں اشتہار ہی اشتہار لگے ہوئے ہیں، وہاں لوگ کیسے جیتے ہوں گے، حکومت کا کام ہے کہ بلڈنگ پلان پر عمل کرائے مگر یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔