Aug 26, 2020 05:19 pm
views : 232
Location : Different Places
Karachi- Flooded streets, submerged cars as rain causes havoc in Karachi
مون سون کے چھٹے اور طوفانی اسپیل نے کراچی کو ڈبودیا
مون سون کے چھٹے اورطوفانی اسپیل نے شہر قائد کو ڈبودیا ہے جب کہ محکمہ موسمیات نے مزید بھی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
کراچی میں مون سون کے چھٹے اسپیل میں موسلا دھاربارش سے شہر بھرکی سڑکیں تالاب اوردریا کا منظرپیش کررہی ہیں۔ بارش کا سلسلہ صبح سے کسی حد تک تھم گیا ہے تاہم مزید بارش کا امکان ہے۔
ایک جانب کراچی کے عوام انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث ابررحمت کو زحمت بنا دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب بجلی کی بندش نے ان سے چین و سکون بھی چھین لیا ہے۔ گزشتہ جمعے کو ہونے والی طوفانی بارش کے 6 روزبعد بھی سرجانی ٹاؤن اور نئی کراچی کے مختلف علاقے بجلی سے بدستور محروم ہیں۔ دوسری جانب گلستان جوہر ، گڈاپ اور بن قاسم ٹاؤن میں گزشتہ 3 روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
شہر میں گزشتہ 3 روز کے دوران 200 ملی میٹرسے زائد بارش ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے برساتی نالے اور سیوریج سسٹم میں آنے والا پانی نکاسی کی گنجائش سے کہیں گنا زیادہ ہے۔ جس کے باعث نالوں اور سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔ مليرندی بارش کے پانی سے اوورفلو ہوگئی، ندی میں طغیانی آنے کے بعد پانی کورنگی کازوے سے گزر رہا ہے جس کے باعث رات گئے دادا بھائی ٹاؤن میں ندی اوورفلو ہوگئی اور پانی علاقے میں داخل ہوگیا۔
بلوچ کالونی میں پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد پاک بحریہ نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے لوگوں کوکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقل کیا۔
ڈپٹی کمشنرملیرکا کہنا ہے سیلابی ریلے سے گڈاپ کے کچھ دیہات بھی متاثر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم اے اور پاک فوج کی ٹیموں نے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کردیا ہے۔
ملیرکے مختلف گوٹھوں میں بھی ملیر ندی میں طغیانی کے باعث پانی آبادی میں داخل ہوگیا، رات گئے لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبورہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کے افسران و جوان بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچے اورملیرندی کے اطراف واقع گوٹھوں سے متاثرہ افراد کوکشتیوں کے ذریعے نکال کرمحفوظ مقام پرمنتقل کیا
شدید سیلابی صورتحال میں فوج اور رینجرز کی 70 ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ فوج اور رینجرز کے دستے متاثرہ افراد کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ قائد آباد کے عوام کو آرمی انجینرز کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو فوری لوگوں کو نکالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو کھانا اور پانی پہنچائیں، انہیں اکیلا نہ چھوڑیں۔
حالیہ بارشوں کے باعث جہاں کراچی میں تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم ہوئی ہیں وہیں شہر کے ضلع غربی کو پانی کی فراہمی کے سب سے اہم ذریعے حب ڈیم میں قابل استعمال پانی کی سطح میں مزید 4 فٹ کا اٖاجہ ہوا ہے جس کے بعد اب اس ڈیم میں صرف 5 پانی پانی کی گنجائش رہ گئی ہے۔