کوئٹہ،ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے، جماعت اسلامی خواتین ونگ
جماعت
اسلامی خواتین ونگ کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کے
بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماء خواتین ونگ جماعت اسلامی شازیہ عبداللہ
کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے بعد معصوم بچوں اور قوم کی بیٹیوں کی زندگی کا
خاتمہ کیا گیا افسوس کا مقام یہ ہے کہ مجروں کو شک کی بیاد پر ریلیف دیا
جاتا ہے۔ مجروں کو ریلیف ملنے کی وجہ سے جنسی تشدد کے وارداتوں میں اضافہ
ہوا ہے۔
شازیہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ لاہور میں 2020 کے پہلے دو
ماہ میں 73 زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات ہوئے ہیں۔ حالیہ موٹروے
حادثہ افسوسناک ہے۔ موٹروے واقعہ معاشرے اور حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ملک
میں اب بڑی شاہراوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے۔
شازیہ عبداللہ
کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج
ہے۔خواتین اور بچوں کے ساتھ درندگی کے مرتکب کسی معافی کے حقدار نہیں۔میڈیا
طرز عمل اور ہیجان خیز ڈرامے ملکر معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔
قبل
ازیں کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین نے اپنے
ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جبکہ مظاہرین کی جانب سے
نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔