نواز شریف کا بیانیہ ملک دشمنوں سے مل رہا ہے، وفاقی حکومت کا ردعمل
وفاقی حکومت نے نواز شریف کی تقریر پر ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا بیانیہ ملک دشمنوں سے مل رہا ہے۔
وفاقی وزراء شبلی فراز، اسد عمر، شاہ محمود اور فواد چودھری نے اپوزیشن کی اے پی سی اور نواز شریف کی لندن سے تقریر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی ردعمل پیش کیا۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم پر اپوزیشن رہنماؤں کے خطاب کو ٹی وی پر نشر ہونے سے نہ روکا گیا، مولانا فضل الرحمان کی تقریر بھی اے پی سی کی میزبان پیپلزپارٹی کی جانب سے روکی گئی، اپوزیشن نے 2018 کے الیکشن کو دھاندلی زدہ الیکشن قرار دینے کی کوشش کی، تو کیا نواز شریف جن تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے وہ الیکشن ٹھیک تھے؟ ان کو صاف شفاف الیکشن کی عادت نہیں، اس لیے وہ سیخ پا ہیں
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج نے فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں امن قائم کیا، افغانستان میں بھی امن کی امید نظر آرہی ہے، دشمنوں کو پتا ہے پاکستان ان مشکلات سے نکل گیا تو پاکستان کو روکنا مشکل ہوجائے گا، یہ کامیابیاں اس لیے حاصل ہورہی ہیں فوج اور سول لیڈرشپ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ملکر کام کررہے ہیں۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ابو بچاؤ مہم کا لب لباب یہ ہے کہ فوج و عدلیہ ہمارے ساتھ ہیں تو سب ٹھیک ہے، اگر ہمارے ساتھ نہیں تو برے ہیں،یہ پہلے لیڈر ہیں جو لندن کے مے فیئر اپارٹمنٹ میں بیٹھ کر کہتے ہیں عوام باہر نکلیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے ججز سے مرضی سے فیصلے کروانے کی کوشش کی، جو پیسے یہ کما کر باہر لے جاتے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ فوج ان کی مدد کرے، ہماری حکومت کو روزانہ عدالت کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی ناکامی کے ذمےدار ہم نہیں وہ خود ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنی صفوں کو ٹٹولیں، کل کی اے پی سی تضادات کا مجموعہ تھی جس میں ناامیدی نظر آئی، گزشتہ روز فوج، عدلیہ، نیب اور الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اے پی سی کے شادیانے پڑوسی ملک میں بجائے جارہے ہیں، کورونا چیلنج کے باوجود معیشت بہتر ہورہی ہے، انہوں نے سوچا تھا کہ معیشت کبھی بہتر نہیں ہوگی اس لیے ان کو مایوسی ہوئی۔