Sep 28, 2020 06:03 pm
views : 242
Location : Domestic Place
Islamabad- Head of Afghanistan Reconciliation Council has arrived in Pakistan
اسلام آباد، پاکستان کی سفارتی پالیسی کامیابی سے ہمکنار، افغانستان مصالحتی کونسل کے سربراہ پاکستان پہنچ گئے
شمالی اتحاد کے رہنماء کو مدعو کرکے پاکستان نے ترپ کا پتہ کھیل لیا۔ عبداللہ عبداللہ کی پاکستان آمد سے اشرف غنی کی افغان حکومت کی بھارت نوازی کو بیلنس کرنے میں مدد ملے گی۔ روس بھی پاکستان اور شمالی اتحاد کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔عبداللہ عبداللہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور شمالی اتحاد کے درمیان بہتر تعلقات کی بنیاد رکھے جانے کا امکان ہے۔
نائن الیون سے قبل پاکستان شمالی اتحاد کے مقابلے میں طالبان حکومت کی حمایت کرتا تھا جبکہ شمالی اتحاد کو روس، ایران اور بھارت کی حمایت حاصل تھی اس دوران پاکستان اور شمالی اتحاد کے رہنماؤں میں دوریاں بڑھتی گئیں اور یہ اختلافات افغآنستان پر امریکہ کی فوجہ کشی کے بعد بھی جاری رہے تاہم گزشتہ چند برسوں میں افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور خطے میں نئی صف بندی میں پاکستان اور روس کے تعلقات پہلے بہتر ہونا شروع ہوئے اور اس کے بعد روس کی مدد سے پاکستان شمالی اتحاد میں بھی رابطے بڑھنے لگے۔
اشرف غنی امریکہ کے بھی مکمل کنٹرول میں ہیں جبکہ اس کے برعکس شمالی اتحاد روایتی طو پر روس کا اتحادی رہا ہے۔ شمالی اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ رواطب سے پاکستانی اداروں کا یہ اصولی فیصلہ بھی منعکس ہورہا ہے جس کے تحت افغانستان کے تمام گروپوں سے روابط رکھے جائیں گے جس سے ایک طرف پاکتان وہاں امن کیلئے بھی زیادہ بہتر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوگا اور دوسری جانب بھارت کیلئے گراؤنڈ محدود کیا جاسکے گا۔
روس پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینے لگا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روس نے بھارت کی جانب سے یہ اعتراض مسترد کردیا تھا کہ کشمیر سے متعلق پاکستان کا نیا جاری کردہ نقشہ ہٹایا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا روز اول سے افغانستان میں قیام امن کا خواہاں رہا ہے۔