Jun 02, 2021 01:30 pm
views : 236
Location : Domestic Place
Islamabad- The government withdrew its appeal against Shahbaz Sharif's going abroad
اسلام آباد، شہباز شریف اب بیرون ملک جاسکتے ہیں، حکومت نے اپیل واپس لے لی، شہباز شریف نے بھی توہین عدالت کیس کی پیروی نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی
سپریم کورٹ آف پاکستان میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی کارروائی کا ریکارڈ پیش کردیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کا کیس سسٹم کے تحت مقرر ہوا یا خاص طور پر؟۔ رجسٹرار ہائی کورٹ نے جواب دیا کہ درخواست اعتراض کیلئے مقرر ہوئی ہوئی تھی، فیصلہ ہوا کہ اعتراض پر فیصلہ درخواست کیساتھ ہی ہوگا، جمعہ کو 9:30 پر اعتراض لگا اور 11:30 پر کیس کی سماعت ہوئی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومتی وکیل کو ہدایات لینے کیلئے صرف 30 منٹ دیے گئے، ایک سال میں کتنے مقدمات کی جمعہ کو 12 بجے سماعت ہوئی؟ بتایا جائے کتنے مقدمات میں یکطرفہ ریلیف دیا گیا؟ ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ شہباز شریف کا نام کس لسٹ میں ہے، کیا اس طرح کا عمومی حکم جاری ہو سکتا ہے جیسا لاہور ہائی کورٹ نے کیا۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ فوجداری مقدمات میں ملزم کی نقل و حرکت کو کیسے محدود کیا جا سکتا، لاہور ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کا موقف سنا گیا، فیصلہ جلدی آجائے تو مصیبت تاخیر ہو جائے توبھی مصیبت۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ عدالت وفاق کی اپیل کو دو ٹرمز پر نمٹا دے، لاہور ہائیکورٹ کا بلیک لسٹ سے نام نکالنے کا فیصلہ مثال نہ بنے۔ جسٹس اعجاز الا حسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ رجحان بن گیا ہے ملزم کو پکڑ لیتے ہیں، نیب ریفرنس میں 140 گواہان کے نام شامل کر دیتا ہے، اگر پانچ پانچ سال ٹرائل چلے گا تو یہ احتساب کے عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو جس انداز میں ریلیف دیا گیا وہ کسی کیلئے مثال نہیں بن سکتا۔