Aug 11, 2021 12:13 pm
views : 245
Location : Domestic Place
Islamabad- We do not want anyone to impose on Afghanistan by force, FM
اسلام آباد، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی طاقت کے بل پرافغانستان پر مسلط ہو، وزیرخارجہ کہتے ہیں یہ کہہ دینا کہ پاکستان نے ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا رکھی ہے یہ درست نہیں ہے،، ہمیں ادراک ہے افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے حالات کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، افغانستان سے باہر ایک طبقہ تخریب کاری کا کردار ادا کر رہا ہے، ہم عالمی اتفاق رائے کا حصہ ہیں، ہمارے مقاصد یکساں ہیں، خطے میں کچھ قوتیں امن کے مخالف کام کررہی ہیں، جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تشدد میں اضافے پر ہمیں تشویش ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بازورِ بازو افغانستان میں مسلط ہو، ہم ان کے معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے، لیکن اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار تھے اور تیار ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت کا رویہ افسوسناک تھا، عالمی برادری اور سلامتی کونسل کو اس کانوٹس لیناچاہیےتھا، ہم سلامتی کونسل کے ممبر نہیں ہیں لیکن افغانستان کی صورتحال سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا ہے، ہم سلامتی کونسل میں اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہتےتھے، پاکستان نے اس ضمن میں بھاری قیمت ادا کی ہے، اگر خدانخواستہ افغانستان میں حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلے متاثر پاکستان ہو گا، بھارت کو ایک ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کی عارضی ذمہ داری سونپی گئی اسے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا جو بدقسمتی سے اس نے نہیں کیا، بھارت کارویہ ہاتھی کےدانت دکھانےکےاور کھانے کےاورجیسا ہے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور یو اے ای سے ہماری پابندیوں پرنظرثانی کیلئے بات جاری ہے، ہم نے ان کے سامنے کورونا کے اعداد و شمار رکھے ہیں، ہم نے ان سے کہا ہمارے ہاں بھارت جیسی بھیانک صورتحال نہیں ہے، ہماری رائے میں، کرونا وبا سے متعلقہ پابندیوں کے فیصلے سیاسی نہیں، سائنسی بنیادوں پر ہونے چاہیں، ہمیں توقع ہے کہ اگلے اجلاس میں وہ پاکستان کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پابندیوں کے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔