Aug 22, 2021 05:16 pm
views : 213
Location : Different Places
Lahore- Minar-e-Pakistan incident: 66 detained in Tiktoker assault case so far
مینار پاکستان واقعہ، 66 گرفتار، 70 افراد کی شناخت،ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے
صوبائی
دارالحکومت لاہور میں مینار پاکستان پر ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد
تحقیقات میں 66 ملزم گرفتار کر لیے گئے، 300 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ ہو
رہی ہے، جبکہ 70 افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔ راوی روڈ میں پولیس نے ویڈیو
بنانے اور غیراخلاقی حرکت کرنے والے ملزمان کی شناخت کر لی۔
تفصیلات کے
مطابق مینار پاکستان میں خاتون سے دست درازی کے معاملے پر انویسٹی گیشن
پولیس نے 70 سے زائد افراد کی شناخت مکمل کرلی ہے۔ پولیس نے جیوفینسنگ کی
مدد سے 791 فون نمبرز شارٹ لسٹ کرلئے۔ ضلع کچہری کی عدالت نے 40 ملزمان کو
شناخت پریڈ کیلئے جیل بھجوا دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزموں کو نادرا
کی ویڈیوز اور زیر حراست ملزموں کی مدد سے شناخت کیا گیا۔ میڈیا پر خبر نشر
ہونے کے بعد ملزمان جھنگ، سرگودھا اور دیگر اضلاع میں فرار ہو گئے تھے۔
ذرائع
کے مطابق ٹک ٹاکر عائشہ بیگ کے ساتھی ریمبو کابھی میڈیکل کروا لیا گیا۔
عائشہ اور اس کے ساتھی ریمبو کا بیان سی آئی اے پولیس نے ریکارڈ کرلیا۔
میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مقدمہ میں مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔
پولیس
نے جیوفینسنگ کی مدد سے 791 فون نمبرز شارٹ لسٹ کرلئے۔ شارٹ کئے گئے نمبرز
میں سے 60 نمبر صرف لاہور کے مشکوک افراد کے ہیں، باقی تمام نمبر بیرون
اضلاع کے رہائشیوں کے ہیں۔ شارٹ لسٹ کئے گئے نمبرز عائشہ اکرم کے پاس وقوعہ
کے وقت موجود تھے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال کے مطابق انویسٹی
گیشن پولیس نے 300 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی، 100 سے زائد افراد کو
ابتدائی تفتیش کے لئے تحویل میں لیا گیا۔ پولیس نے گرفتار 40 ملزمان کو ضلع
کچہری کی عدالت میں پیش کر دیا۔ عدالت نے 40 ملزمان کو شناخت پریڈ کے لئے
جیل بھجوا دیا۔
سیشن عدالت سے ملزم شہروز سعید کی 3 ستمبر تک ضمانت
منظور کرلی گئی۔ پراسیکیوشن نے تفتیشی ٹیم کو شواہد اکٹھے کرنے اور وائرل
ویڈیوز کو فرانزک کیلئے بھجوانے کی ہدایت کر دی۔
اُدھر وزیراعلیٰ پنجاب
سردار عثمان بزدار نے 71سالہ بزرگ شہری کو پکڑنے پر نوٹس لے لیا اور بزرگ
شہری کو تحقیقات کے بعد رہا کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ
کے مطابق جیوفینسینگ میں نمبر آنے پر ان تمام افراد سے تحقیقات کیں، بہت
سے ایسے افراد کے نمبر بھی سامنے آئے جن سے صرف پوچھ گچھ کے بعد رہا
کردیا۔