Aug 26, 2021 04:43 pm
views : 229
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- SC has set the parameters of Suo Moto Notice
اسلام آباد، از خود نوٹس صرف چیف جسٹس پاکستان کا ہے، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ازخود نوٹسز کیس وہی بینچ سنے گا جس کے پاس زیرالتوا ہے
سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کے پیرا میٹرز طے کرتے ہوئے کہا ہے کہ از خود نوٹس صرف چیف جسٹس پاکستان یا ان کی منظوری سے ہی لیا جاسکتا ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس لینے کے طریقہ کار کے کیس کی سماعت کی۔ فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں از خود نوٹس کے پیرا میٹرز طے کردیئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ از خود نوٹس صرف چیف جسٹس پاکستان یا ان کی منظوری سے ہی لیا جاسکتا ہے، ازخود نوٹسز کیس وہی بینچ سنے گا جس کے پاس زیرالتوا ہے، آئندہ کوئی بھی بینچ از خود نوٹس کے اختیار استعمال کرنے کے لئے فائل چیف جسٹس کو بھجوائے گا، سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سامنے پیش کی گئی صحافیوں کی درخواست بھی نمٹا دی۔
دوران سماعت پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدر امجد بھٹی نے عدالت کے روبرو کہا کہ پانچ رکنی بینچ نے قانونی سوالات اٹھائے ہیں، قانونی نقطے پر صحافی دلائل معاونت نہیں کرسکتے۔
دوران سماعت صحافی عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون نے بینچ پر اعتراض کر دیا، جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ بنچ پر اعتراض جرم نہیں لیکن اس نکتے پر دلائل تو دیں۔
دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو قانون اور ضابطے کے تحت کارروائی کرنی ہوتی ہے، صحافی معاشرے کی آواز ہیں، صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر کوئی دو رائے نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین کا تحفظ اور بنیادی حقوق کا نفاذ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، صحافیوں کیخلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن کر کھڑی ہوگی۔