راولپنڈی، اس سال وطن کی مٹی گواہ رہناکے نام سے یوم دفاع وشہداء منایا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں پاکستان کی طرف سےبارڈرسیف اینڈسیکیورہیں،پاکستان میں امن کےلئے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار نے افغانستان کی صورتحال پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال غیرمتوقع تھی ، طالبان کے خوف میں افغان فوجیوں نےبھی ہم سےمحفوظ راستہ مانگا ، صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام چیک پوائنٹس پر دستے تعینات کئے۔
پاک افغان بارڈر پر صورتحال سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار نے بتایا کہ 15اگست کی صورتحال کے بعد بارڈر کھولے گئے ، بارڈر اس لئے کھولے کہ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے ، موجودہ صورتحال میں افغانستان سے 113فلائٹس پاکستان آچکی ہیں، تاہم پاک افغان بارڈر پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پرنقل وحرکت کوپہلےہی کنٹرول کرلیاتھا لیکن موجودہ صورتحال افغانستان کے بعد سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 86 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا اور دہشتگردی کے باعث مشرقی سرحد پر 3بار کشیدگی کا سامنا رہا ، مشرقی سرحد پر 12312 سیزفائرکی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارڈر پر کئے گئے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ ہم نےپاک افغان بارڈرکیلئےبہترین اقدامات کیے، پاک افغان بارڈر پر 78کراسنگ پوائنٹس ہیں، ماضی میں افغان حکومت کیساتھ بارڈرمینجمنٹ پر بات کرتے رہےہیں، لیکن غیر مؤثر بارڈر مینجمنٹ کے باعث دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ داسو،لاہور،کوئٹہ واقعات این ڈی ایس اور را کےگٹھ جوڑکی وجہ سےہوئے، پاکستان نے بارہا افغانستان میں اسپائلرز کےکردار سے دنیا کو آگاہ کیا تاہم سرحد کے اس پار صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔