اسلام آباد، آزادی کشمیر تحریک کے بانی سید علی گیلانی سری نگر میں سپرد خاک، بھارت کا وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو،پاکستان میں ایک روزہ سوگ، پرچم سرنگوں رکھا گیا،صدر پاکستان، وزیر اعظم، سیاسی عسکری قیادت کا اظہار تعزیت
کشمیر کی آزادی کے سب سے معتبر اور بزرگ رہنما سید علی گیلانی کو سپرد خاک کردیا گیا ۔انہیں ان کے دو بیٹوں ڈاکٹر سید نعیم گیلانی اور سید نسیم گیلانی نے لحد میں اتارا۔
عظیم حریت رہنماء کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد قابض بھارتی انتظامیہ نے سری نگر سمیت وادی بھر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا ۔موبائل فون اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت سلب کرلی گئی۔ آبائی ضلع سوپور میں بھی سخت پابندیاں عائد کرکے نیم فوجی دستوں کو سڑکوں اور چوراہوں پر تعینات کردیا گیا ۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی سید علی گیلانی کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی زندگی بھر کی قربانیاں اور مسلسل جدوجہد کشمیریوں کے بھارتی قبضے کے خلاف ناقابل تسخیر عزم کی علامت ہے۔ وزیراعظم آزادجموں وکشمیر سردار عبدالقیوم خان نیازی نے سید علی گیلانی تحریک آزادی کے سرخیل اور مزاحمت کا استعارہ تھے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیدعلی گیلانی نےکبھی بھی اصولوں پرسمجھوتہ نہیں کیا۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے روح رواں تھے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی وفات سے آزادیٔ کشمیر کا تاریخ ساز عہد تمام ہوا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی رحلت سے کشمیری یتیم ہوگئے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں سید علی گیلانی کی میت چھینے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔