Sep 19, 2021 05:33 pm
views : 276
Location : Different Places
Islamabad- NADRA chief orders probe into letter sent to ECP
چیئرمین نادرا کا الیکشن کمیشن کو خط کی تحقیقات کا حکم
چیئرمین نادرا طارق ملک نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کے معاملے پر متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
چیئرمین
نادرا نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کے بارے میں معلوم
کیا جائے کہ خط میں غیر پارلیمانی زبان کیوں استعمال کی گئی اور یہ خط
لکھنے کی منظوری کس نے دی۔ نادرا کے پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ نے20 اگست کو
سیکریٹری الیکشن کمیشن کوخط لکھا تھا، یہ خط چیئرمین نادرا کی طرف سے نہیں
لکھاگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نادرا نے 2 اگست کو الیکشن کمیشن
میں نئے انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم اور پرانے سسٹم پر چیف الیکشن کمشنر کو تفصیلی
بریفنگ دی تھی۔ میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے ڈی جی آئی ٹی اور دیگر اعلیٰ
حکام بھی شریک تھے۔
چیئرمین نادرا طارق ملک نے بریفنگ میں بتایا کہ غیر
جانبدار آڈیٹرز کی رپورٹ کے مطابق پرانے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے
کے لئے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہے۔ آئی ٹی ماہرین کے مطابق نئے سسٹم کو
بنانے کے لئے تین سال کا عرصہ درکار ہو گا جبکہ چیئرمین نادرا نے صرف ایک
سال میں یہ سسٹم مکمل کرنے کی پیشکش کی۔
انہوں نے بتایا کہ نئے سسٹم کے
تحت نادرا اپنی طرز پر الیکشن کمیشن کو ایک مربوط سمندر پار پاکستانیوں کے
لئے آئی ووٹنگ نظام بنا کر دے گا جو الیکشن کمیشن کے اپنے ڈیٹا سنٹر،
سروَرز اور تھرڈ پارٹی سافٹ ویئرز پر مشتمل ہو گا۔ اس سسٹم کو انتظامی اور
تکنیکی طور پر الیکشن کمیشن خود کنٹرول کرے گا۔ اس نظام کی بدولت الیکشن
کمیشن آئی ووٹنگ کے تمام تر انتظامات میں خود کفیل بن جائے گا۔ نادرا کے
کمپیوٹرز یا سروَرز سے اس نئے سسٹم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
الیکشن کمشن
نے چیئرمین نادرا کی طرف سے پیش کئے گئے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے نئے
آئی ووٹنگ سسٹم کو سراہا اور نادرا کو اس پرآگے بڑھنے کا زبانی اصولی حکم
دیا۔
اس پس منظر میں نادرا کے پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ نے20 اگست کو سیکرٹری
الیکشن کمیشن کو خط لکھا جس میں 2اگست کی میٹنگ میں دیئے گئے زبانی
احکامات کو تحریری شکل دینے کو کہا گیا تا کہ نئے سسٹم کے تمام امور کو ایک
سال کے اندر مکمل کیا جا سکے۔ نئے انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم میں احتساب اور
شفافیت پر مبنی نظام تجویز کیا گیا ہے۔اس سسٹم کے تحت ہر ووٹر جان سکے گا
کہ اس کا ووٹ حتمی گنتی میں شمار کیا گیا ہے یا نہیں۔