Oct 10, 2021 10:13 pm
views : 304
Location : Different Places
Islamabad- Pakistan's Nuclear scientist Dr Abdul Qadeer Khan passes away at 85
پاکستان کے محسن ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے
پاکستان کے محسن ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے، ان کی عمر 86 برس تھی۔
بتایا
گیا ہے کہ گذشتہ شب پھیپھڑوں کے عارضے کے سبب ان کی طبعیت خراب ہوئی جس پر
انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، آئی سی یو میں ڈاکٹروں کی جان
توڑ کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ
فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی۔
پاکستان کی مسلح افواج نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آئی
ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف
کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر
خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید
باجوہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں گراں قدر خدمات
سر انجام دیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔
وفاقی وزیر داخلہ
شیخ رشید نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے،
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی تھے جنہیں تین بار
صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ملکی دفاع کیلئے ان کی گراں قدر خدمات ہمیشہ
یاد رکھی جائیں گی۔ معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر
کی وفات پر ہر دل افسردہ ہے، انہوں نے عملی طور پر پاکستان کو دفاعی طاقت
بنایا۔
صدرمملکت عارف علوی نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے
انتقال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ملک کیلئے ان
کی خدمات کبھی نہیں بھولے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو
1982 سے ذاتی طور پر جانتا تھا۔ انہوں نے جوہری تخفیف کو فروغ دینے میں
ہماری بہت مدد کی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستانی ایٹم بم کا خالق
تسلیم کیا جاتا ہے، وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز ملے، ان
کو ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان 1936 میں بھوپال میں
پیدا ہوئے۔ 1947 میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے۔
انجینئرنگ کی ڈگری 1967 میں نیدرز لینڈ کی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے
بیلجئیم کی یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی بعد
ازاں ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔
اعلیٰ
تعلیم کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 میں وطن واپس لوٹ آئے اور اسی برس
31 مئی کو پاکستان کی اٹامک انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کا حصہ بن گئے۔ یکم
مئی 1981 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا نام تبدیل کر کے ڈاکٹر اے کیو خان
ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا۔ شب و روز کی انتھک محنت کے بعد 1998 میں
ایٹمی دھماکے کر کے انہوں نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کا شاندار
کارنامہ سر انجام دیا۔