ہر ماہ پٹرولیم لیوی چار روپے ماہانہ
بڑھانے اور پی ڈی ایل کو تیس روپے تک لے کا اعلان کردیا
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول پر ہر ماہ 4 روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں بڑھانا پڑیں گے، چار اعشاریہ 95 روپے کا ٹیرف بڑھائیں گے جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو 30 روپے تک لے کر جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کافی لے دے ہوئی ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے 700 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، انکم ٹیکس اور زرعی شعبے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ منظور کروانے میں کامیاب ہوئے، میرے نزدیک ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں، مسئلہ کیپسٹی پیمنٹ کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سب پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ اس سال کے آخر تک 6100 ارب کا ٹیکس جمع کریں گے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مالی اخراجات کم کرکے بجٹ خسارہ قابو کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا کہ ہم نے انرجی کے شعبے میں زبردست کام کیا، پروگرام کے بعد معیشت میں مزید استحکام آئے گا، دنیا کورونا کا شکار ہے، دنیا میں مہنگائی 30 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضا مندی پہلے ہوگئی تھی اس لیے آئندہ چند ماہ کے بعد بجلی مزید مہنگی کرنا پڑے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ توانائی سیکٹر میں ریکوری میں بہتری آئی ہے، ٹرانسمیشن کیپسٹی کو بھی بہتر کر رہے ہیں، بجلی گھروں سے سارے معاہدے پچھلی حکومت نے کیے، اب ہم 200 یونٹ کی نئی تشریح کر رہے ہیں، اب 200 یونٹ وہ ہوگا جو 6 ماہ سے زیادہ اسی یونٹ میں رہے گا۔