وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عوام مری جانے سے باز نہیں آرہے۔
شیخ رشید
نے کہا کہ عوام مری جانےسےبازنہیں آرہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہمیں 15
،10 سیاحتی مقامات بنانےچاہئیں، مری میں جگہ چھوٹی ہےاورآبادی بہت زیادہ
ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی رہنماؤں اور
ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ مری پر بریفنگ کے دوران بعض وفاقی
وزراء ضلعی انتظامیہ کے حق میں بولے تھے۔
وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے
کہا تھا کہ پوری صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا،
شام پانچ بجے ہی مری جانے والے راستے بند کردیے تھے، حالات پولیس کے کنٹرول
سے باہر تھے، رینجرز طلب کرنا پڑی۔
دوسری جانب سیاحوں کے لئے خود ساختہ
مشکلات پیدا کرنے والے مقامی مفاد پرستوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا۔
دشوار گزار راستوں پر رات کی تاریکی میں خود برف پھیلانے والے نامعلوم
افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ سیاحوں کو نکالنے میں مدد کے نام
پر بلیک میل کرکے رقوم ہتھیانےکی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
سابق
گلوکارہ رابی پیرزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مری میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے
قبل مقامی افراد ایک انڈا 500 جبکہ کمرے کا کرایہ 50 ہزار روپے وصول کررہے
تھے۔
رابی پیرزادہ کا کہنا ہے کہ مری کی برف باری اور شدید ٹریفک جام
میں پھنسے شہریوں سے دکاندار اشیائے ضروریہ کی بھاری رقم لیتے پائے گئے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مقامی شہریوں کی جانب سے پانی کی بوتل بھی 500 روپے میں فروخت کی جارہی تھی۔