چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول
بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جو کسی اور کے سہارے حکومت بناتے ہیں وہ عوام کی
بجائے آئی ایم ایف کی ہی بات مانتے ہیں۔
چیئرمین
پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جو کسی اور کے سہارے حکومت
بناتے ہیں وہ عوام کی بجائے آئی ایم ایف کی ہی بات مانتے ہیں۔
قومی
اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو
زرداری کا کہنا تھا کہ منی بجٹ پیش کرنا ثبوت ہے کہ یہ حکومت معیشت کے
معاملے پر ابہام کا شکار ہے، ہم نے پہلے روز کہا تھا کہ معاشی کنفیوژن
معاشی طور پر موت کے مترادف ہے، آئی ایم ایف میں نہ جانے کا اعلان کرکے
پہلے عوام کو مشکلات میں ڈالا اور پھر آپ مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس گئے،
آپ کمزور پوزیشن میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے اور ڈیل میں
کمزور کی تھی، ہم نے اس وقت کہا تھا کہ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ سے غریب کو
نقصان ہوگا، اسے بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ
2019 میں قائد حزب اختلاف نے میثاق معیشت کی پیشکش کی، صدر زرداری نے بھی
معیشت کی پیشکش کی، اس وقت آپ نے انکار کردیا، پھر آپ نے اکیلے فیصلے لئے،
قوم کو نظر آرہا ہے جو کچھ آپ نے کیا، آپ اگر شہباز شریف اور آصف علی
زرداری کی بات مانتے تو آپ کو اس کا فائدہ ہوتا، ایسی صورت میں جب آپ آئی
ایم ایف سے ڈیل کرتے تو حکومت یا پارٹی نہیں بلکہ پاکستان کی نمائندگی
کرتے، مگر آپ کی ضد، انا، پسند ناپسند کی وجہ سے آپ نے عام آدمی کی جیب اور
پیٹ پر ڈاکا ڈال دیا، ایک نئے وزیر کے ساتھ ایک نیا بجٹ پیش کردیا، اس وقت
بھی آپ کی معاشی کارکردگی نظر آرہی تھی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ
حکومت یہ روایت ڈال چکی ہے کہ حقیقت کچھ بھی ہو وہ اپنی ہی بات کریں گے،
عوام بے شک دکھتے رہیں یہ کہتے رہیں گے کہ پاکستان ترقی کررہا ہے، پاکستان
کی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معاشی ترقی کی طرف جارہے ہیں، مگر کہاں۔، آپ نے
کہا تھا کہ ہم ٹیکس کا طوفان نہیں لائیں گے مگر آج جنوری میں آپ ٹیکسز کا
سونامی لے آئے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان مزید غربت،
مہنگائی، بے روز گاری کا بندوبست کررہے ہیں، اگر ترقیاتی بجٹ سے 250 ارب
روپے کی کٹوتی ہوگی تو ہر سطح پر اس کا نقصان ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا
کہ ہم نے عوام دشمنی دیکھی، غریب دشمنی دیکھی مگر یہ حکومت تو ملک دشمنی پر
اتر آئی ہے، جس قسم کا ظلم اس منی بجٹ میں کیا جارہا ہے اس کے لئے الفاظ
تک نہیں، سلائی مشینوں تک پر ٹیکس لگا دیا ہے، اس پر میں مزید نہیں بولوں
گا آپ کو سمجھ آرہا ہوگا۔