وفاقی وزرا اور حکومتی
اراکین نے وزیراعظم کے دورہ چین کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے
امید ظاہر کی ہے کہ اس سے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور چینی سرمایہ
کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔
وفاقی وزرا اور حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے دورہ چین کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور چینی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔
دفتر وزیراعظم کے مطابق دورے کے دوران چین کے صدر اور وزیراعظم سمیت مختلف کاروباری شخصیات کو پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ کتاب پیش کی جائے گی۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے تیار کی گئی پچ بک میں شعبہ جاتی بنیادوں پر تفصیلات اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے حامل شعبوں اور حکومت کی جانب سے ان شعبوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا ذکر شامل ہے۔
وزیراعظم کے دورہ چین سے متعلق خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ چین کا دورہ معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا چین کو کہیں گے کہ ہماری مدد کریں، آپ چین کی صنعتوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں لے کر جارہے ہیں، انہیں پاکستان بھی لائیں جہاں خصوصی اقتصادی زونز تیار ہوگئے ہیں۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ہمارا چھٹا جائزہ منظور کیا جو بہت خوش آئند اور اس بات کا مظہر ہے کہ آئی ایم ایف ہماری معاشی حکمت عملی سے اتفاق کرتا ہے۔
اس حوالے سے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ یہ دورہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے لیے بھی بہت اہم دورہ ہے کیوں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دونوں سربراہان کی طویل عرصے سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب افغانستان کے حوالے سے چین اور پاکستان کی شراکت داری کلیدی کردار ہے، امریکا کے انخلا کے بعد افغانستان کو مستحکم کرنا پاکستان کے لیے ضروری ہے۔
مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ایک بہت بڑا موقع ہے کہ جس میں اس حوالے سے بات ہوگی کہ کس طرح مل کر افغانستان کو مستحکم بنایا جائے تا کہ وہاں سے دہشت گردی کے واقعات نہ ہوں بلکہ تجارتی مواقع پیدا ہوں۔
دورہ چین کے بارے میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم دورہ ہے جس میں اولمپکس کے علاوہ بھی بہت سے امور زیر غور آئیں گے۔
علاوہ ازیں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھی دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تجارت کے حوالے سے متعدد چیزوں پر چین کے ساتھ گفتگو کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ایف ٹی اے کے کچھ پہلووں میں بہتری لانی ہے جس میں خاص طور پر چاول، سیمنٹ، سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔