پاکستان میں ڈولفن شو کیلیے
لائی جانیوالی نایاب نسل کی 4ڈولفن مچھلیوں کی ہلاکت کاانکشاف ہوا- ڈولفن
مچھلیاں سن دوہزارانیس میں کھیل تماشے کے لئے لاہور لائی گئی تھیں
کوویڈ 19 کے دوران منتظمین ڈولفن مچھلیوں کو روزانہ خوراک تودیتے رہے جبکہ ان کی دیکھ بھال کے لئے غیرملکی ڈاکٹر بھی موجود تھا لیکن اس کے باوجود چاروں ڈولفن یکے بعد دیگرے دم توڑ گئیں، منتظمین کے مطابق مچھلیوں کی خوراک کا روزانہ خرچہ 20 ہزارروپے تھا۔ ڈولفن شو کے لئے ٹرینربھی روس سے آئے تھے ،غیرملکی ٹیم کو شوکی ہر ایک ٹکٹ پرپانچ ڈالرحصہ دیاجاتا تھا۔ شو کے لئے تین کیٹگریز کے لئے 800 روپے، ایک ہزار اورڈھائی ہزار روپے مالیت کے ٹکٹ رکھے گئے تھے.
ڈبلیوڈبلیوایف کی رکن اور وائلڈلائف بیالوجسٹ ڈاکٹرعظمی خان کہتی ہیں نایاب نسل کے جانوروں کے کھیل تماشے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جبکہ عالمی سطح پر بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔بھارت،فرانس اورکینیڈاسمیت کئی ممالک نے ڈولفن کو اسیری میں رکھنے پرپابندی عائدکردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈولفن کو قید میں رکھنے اوران کے کھیل تماشوں سے ان کی شرح اموات بڑھ رہی ہے جبکہ اس سے ڈولفن کی طبعی عمر آدھی رہ جاتی ہے۔