محسن بیگ کی بیگم کی جانب سے لطیف کھوسہ اور ریاست کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ڈی جی ایف آئی اے، ایس ایچ او تھانہ مرگلہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے، ریاست سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
لطیف کھوسہ نے بتایا کہ محسن بیگ کے خلاف مجرمانہ مقدمے اور تمام نتیجہ خیز کارروائیوں کو منسوخ کیا جائے، ایف آئی آر کا اندراج اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیاں حقائق، قانون کی خلاف ورزی کے نتائج ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر نمبر 34/2022 درخواست گزار کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے،ایف آئی آر نمبر 34/2022 کا شکایت کنندہ ایک موجودہ وفاقی وزیر ہے،سیاسی عزائم، رنجش کی بنیاد پر فوجداری مقدمات بنائے گئے۔
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ محسن بیگ ایف آئی اے ٹیم اور پولیس اہلکاروں کے غیر قانونی فعل اور طرز عمل سے بری طرح زخمی ہوا ہے، تاہم اس حقیقت کا تذکرہ ایف آئی آر میں نہیں کیا گیا ہے، محسن بیگ کو پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔