کوئٹہ دھماکے میں شہید ہونےو الے ڈی ایس پی اجمل سدوزئی نے حال ہی میں تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد فورس میں شمولیت اختیار کی تھی
ڈی آئی جی فدا حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں تقریباً 2 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ایل ای اے تمام زاویوں سے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
دھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم پولیس نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں سول ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جبکہ سول ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے اور ریسکیو ٹیمیں بھی اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدس بزنجو نے واقعہ پر شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو بیرونی مدد حاصل ہے۔وزیر اعلیٰ نے آئی جی پی بلوچستان کو ہدایت کی کہ دھماکے سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔