تسلی رکھیں عدم اعتماد ناکام ہوگی، وزیر اعظم کاکہنا ہے کہ پیچھے نہیں ہٹوں گا، اپوزیشن رہنما کہتے ہیں کہ سندھ ہاؤس میں پولیس گردی ہوئی تو نتائج کے ذمہ دارعمران خان اور شیخ رشید ہونگے ، ووٹ ڈالنے سے قبل کسی رکن کیخلاف کارروائی ممکن نہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے واضح کردیا
وزیراعظم عمران خان نے منحرف ارکان کو ضمیرفروش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اچھا ہوا ضمیرفروش بےنقاب ہو گئے اپوزیشن کی چال کے باوجود عدم اعتماد ناکام ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال سمیت عدم اعتماد پر قانونی و سیاسی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی سندھ میں گورنرراج کی تجویز پر وزیراعظم نے مثبت ردعمل دیا جب کہ خسروبختیار گورنرراج کی مخالفت کی۔ بعض حکومتی رہنمابھی سندھ میں گورنرراج لگانےکےحق میں تھے۔
ارکان نے کہا کہ سندھ حکومت کےلوگ شیشےکےگھر میں بیٹھ کر پتھر برسا رہے ہیں سندھ حکومت کو فوری جواب دینا چاہیے۔
ترجمانوں نےوزیراعظم عمران خان سےنمبرگیم پرمختلف سوالات کیے تو وزیراعظم نے کہا کہ تسلی رکھیں جیت ہماری ہو گی کسی طور پر بھی اپنےنظریے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہےکچھ بھی ہوجائےاین آراونہیں دیا جائے گا۔
سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے اپنے مشترکہ بیان میں سیکریٹری داخلہ، پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ہاﺅس میں پولیس گردی کی گئی تو نتائج کے ذمہ دار عمران خان اور وزیرداخلہ ہوں گے، سیکریٹری داخلہ، پولیس اور انتظامیہ کے حکام کوخبردار کرتے ہیں کہ کسی سیاسی عمل کا حصہ نہ بنیں۔
دوسری جانب تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قانونی پوزیشن واضح کر دی ، بابر اعوان نے کہا کہ دوسری پارٹی میں شمولیت سے پہلے رکن کو استعفیٰ دینا ہوگا، پارلیمانی پارٹی کوئی ہدایت دے تو رکن تعمیل کا پابند ہوگا۔
مشیر پارلیمانی امور نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ہے کہ پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی میں نہیں جائے گا، پارٹی کے فیصلے کے بعد بحث ختم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابہام آئین کے آرٹیکل میں نہیں، نیتوں میں فطور ہے جس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ ووٹ ڈالنے سے قبل کسی رکن کیخلاف کارروائی ممکن نہیں ، ووٹ دینے کے بعد پارٹی لیڈر اسپیکر کو کارروائی کیلئے لکھیں گے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کہ پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ ڈالنے والاانحراف کی شق کی زد میں آئے گا اور عدم اعتماد یا آئینی ترمیم پر پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا ڈی سیٹ ہوگا۔
ووٹ دینے کے بعد پارٹی لیڈر اسپیکر کو کارروائی کیلئے لکھیں گے، اسپیکر 3دن کےاندرالیکشن کمیشن کوریفرنس بھیجےگا اور الیکشن کمیشن 30دن کے اندر فیصلہ سنائے گا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے واضح کیا کہ ووٹ ڈالنے سے قبل کسی رکن کو ڈی سیٹ نہیں کیا جاسکتا۔