حکومت نے
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر
کردیا،آرٹیکل 63اے کی تشریح سےمتعلق ریفرنس پرسپریم کورٹ سے رائے لی جائے
گی ، اٹارنی جنرل ریفرنس کی خودپیروی کریں گے۔
حکومت نے
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر
کردیاصدارتی ریفرنس اورسندھ ہاؤس پر حملےسے متعلق کیس میں ن لیگ نے
ایڈووکیٹ مخدوم علی خان کی خدمات حاصل کر لیں جبکہ پیپلز پارٹی کے فاروق
ایچ نائیک اور جےیوآئی کی طرف کامران مرتضیٰ پیش ہوں گے۔
ریفرنس میں صدر
نےآرٹیکل 186 کے تحت چار بنیادی سوالات پر رہنمائی مانگی ہے ، ریفرنس میں
سوال کیا گیا ہے کہ کیا پارٹی سے خیانت والے رکن کی سزا صرف ڈی سیٹ ہونا ہے
؟ کیا پارٹی سے خیانت پر آئندہ انتخاب میں حصہ لینے سے روکا ہے یا نہیں؟
صدارتی
ریفرنس میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا آرٹیکل63 اے کے تحت ممنوعہ ،غیراخلاقی
عمل پر رکن تاحیات نااہل ہوں گے ؟ کیا پارٹی پالیسی کے خلاف دیا گیا ووٹ
گنتی میں شمار ہو سکتا ہے؟
ریفرنس میں رائے مانگی گئی ہے کہ آرٹیکل63 اے
کے تحت ڈی سیٹ رکن کی نااہلی تاحیات بنتی ہے؟ فریم ورک کے اندر انحراف
کرنیوالے سے متعلق کون سے اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟