ریکوڈک منصوبہ پرتنازع ختم ہوگيا ،وزير اعظم عمران خان نے پاکستان پر عائد 11 ارب ڈالر جرمانہ ختم ہونے کی خوشخبری سنادی، بیرک گولڈ کارپوریشن اور پاکستان کے درمیان ریکوڈک منصوبے کے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو گئے۔
عمران خان نے قوم اور بلوچستان کے عوام کو مبارکباد دی، ٹوئٹ کيا 10سال کے مذاکرات اور قانونی جنگ کے بعد یہ معاہدہ طے پایا اور 11ارب ڈالر جرمانے سے بچ گئے، منصوبے سے بلوچستان ميں 8 ہزار نئی نوکرياں پيدا ہونگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہمارے قدموں میں بیڑیوں کی مانند چمٹے قرض سے نجات ملے گی اور پاکستان ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔
وزير اعظم کا کہنا تھا کہ ريکوڈک کے نئے معاہدے سے پاکستان ميں تاريخ کی سب سے بڑی سرمايہ کاری آئے گی جس کا اصل فائدہ بلوچستان کوفائدہ ہوگا۔
وزير خزانہ شوکت ترين نے حماد اظہر اور وزيراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ معاہدے کی تفصيلات بتاديں کہا ریکوڈک معاہدے پر 25 فیصد حصہ بلوچستان کا ہوگا۔ وفاقی وزير توانائی نياریکوڈک معاہدہ پاکستانی معیشت کيلئے فائدہ مند قرار ديا۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت اور امریکی کمپنی بيرک کے درميان معاہدے پر گزشتہ روز دستخط ہوئے تھے جس کے تحت ملک میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی اور بلوچستان ميں خوشحالی کی نئی راہيں کھليں گی۔
ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں سونے کا دنیا کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہے۔
ئے معاہدے کے تحت 50 فی صد بیرک اور 50 فی صد پاکستان اسٹیک ہولڈرز ہوں گے۔ اس معاہدے میں پاکستان پر لگائے گئے 11 بلین ڈالر کا جرمانہ بھی ختم ہو جائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا میں سونے اور تانبے کی سب سے بڑی کان ہوگی، اور یہ ہمیں اپاہج کر دینے والے قرضوں سے آزاد کرائے گا اور ترقی و خوش حالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔