روس،
یوکرین تنازع حل کرنے میں او آئی سی کردار ادا کرے: وزیراعظم عمران خان کا
او ائی سی سے خطاب ،فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں خصوصاً 2 لوگوں
نے کانفرنس کوناکام بنانے کےلیے پوری کوشش کی، میں ان دونوں لوگوں کوخصوصی
مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ کانفرنس کامیاب ہوئی ہے۔
کانفرنس سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ، اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سلیمان الجاسر، سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل فاران بن السعود ، چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، قازقستان کے نائب وزیراعظم ، تیونس کے وزیرخارجہ کے علاوہ دیگر نےبھی خطاب کیا۔
وزیراعظم نے 48ویں وزرائے خارجہ کونسل کے شرکا کاخیرمقدم کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہاکہ آپ ایک ایسے وقت میں یہاںموجود ہیں جہاں ہم پاکستانی اپنا 75 واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منائے جانے کی قرار داد کی اقوام متحدہ سے منظوری ایک بڑی کامیابی ہے، اس پر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ 15 مارچ کو یہ دن منانے کا انتخاب اس لئےکیا کہ 15 مارچ کو ہی نیوزی لینڈ میں ایک مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہو کر 50 مسلمانوں کو شہید کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تمام مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا تھا۔ نائن الیون کے بعد بد قسمتی سے ایسا بیانیہ بنایا گیا جس میں اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑاگیا۔ مسلم ممالک نے اس بیانیہ کے تدارک کے لئے کچھ نہیں کیا، اسلام کیسے دہشت گردی کے برابر ہو سکتا ہے، کوئی ملک مسلمانوں کے درمیان جدت ، روشن خیالی اور انتہا پسندی کی بنیاد پرکیسے تفریق کرسکتاہے ،مسلم ممالک کو اس پرکھڑے ہوناچاہیے تھاتاہم ہماری اکثر ریاستوں کے اس وقت مسلم حکمرانوں نے اس پر ٹھوس موقف اختیار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو روشن خیال اوراعتدال پسند قرار دیا جس سے بدقسمتی سے یہ تاثر بن گیا اسلام میں لبرل ، ماڈریٹ اور ریڈیکل مختلف قسمیں ہیں لیکن اسلام صرف ایک ہی اور وہ محمد عربی خاتم النبین ﷺ کا اسلام ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ میں چین کے وزیرخارجہ سے ملاقات میں اس پر بات کروں گاکہ کیسے اس بحران سے بچاجائے۔ پوری دنیا پراس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل اور گندم کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ گیس کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ جو ممالک اس تنازعہ میں فریق نہیں ہیں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اس تنازعہ کو حل کروانے میں کرداراداکریں۔
انہوں نے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی سے مخاطب ہو کر کہاکہ وہ اسلامی ممالک کےوزرائے خارجہ سے بات کریں۔ اپنے آپ پر اعتماد رکھنےوالے کبھی ناکام نہیں ہوتے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ آکر ہماری مدد کریں گے۔ ہمیں متحد ہرکرایک بلاک کی طرح ہمیں تنازعات کی بجائے امن کے لئے اپنی طاقت ظاہر کرنی چاہیے۔