چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی
چیف جسٹس
کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل تریسٹھ اے
کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ
آپ کو لگتا ہے کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں کسی قسم کی کمی ہے؟۔
اٹارنی
جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو اکیلا نہیں پڑھا جاسکتا، پارٹی
ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے جماعتوں کے ارکان ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں، کوئی
پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ
دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے
کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو باون ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے، کیا کسی فورم
پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں، رشوت لینا ثابت ہونے پر باون ون
ایف لگ سکتا ہے، منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے
ساتھ ہوگی۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کے عوام
کے ساتھ ہو گی ، آرٹیکل تریسٹھ اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے،
قانونی بددیانتی پر آرٹیکل باون ون ایف کا اطلاق ہوگا۔
جسٹس اعجاز
الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے۔ جسٹس جمال
مندوخیل نے پوچھا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا
کہ کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی
پالیسی کی خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں ، آرٹیکل تریسٹھ اے میں لکھا
ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی، آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں ،
آرٹیکل باون ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے، آرٹیکل تریسٹھ میں
نااہلی دو سے پانچ سال تک ہے ، قرض واپس کرنے پر نااہلی اسی وقت ختم ہو
جاتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں۔