ملک میں موجودہ آئینی صورتحال پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے ملک میں موجودہ آئینی صورت حال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع کر دی۔ صدر، وزیراعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو بھی مقدمے میں فریق بنایا گیا ہے۔
سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عدالت میں کہا اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی رکن اسمبلی کو آنے سے نہیں روکا جائے گا، جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت پر بوجھ بننا نہیں چاہیے، فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رمضان ہے سب نے روزہ رکھا ہے، تمام ادارے آئینی حدود کے مطابق کردار ادا کریں، تمام سیاسی قوتیں اور ریاستی حکام صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں، معاملہ پر دائر درخواستوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونی چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں امن و امان یقینی بنائیں۔
سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے ہر چیز کو پاؤں تلے روند دیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ باتیں باہر کریں۔
۔عدالت نے پنجاب میں امن و امان یقینی بنانے کا حکم دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل، ڈپٹی اسپیکر پنخاب کے معاملہ پر وضاحت کریں، وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں سیاسی جماعتیں امن و عامہ کو برقرار رکھیں۔
پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ ایسا فیصلہ کرے گی جس سے انتشار نہیں پھیلے گا۔