افغانستان کی عوام کو بڑھتی ھوئ مہنگائ کا سامنا-ماہ رمضان میں اشیائے خوردونوش کی مانگ میں اضافہ ، رسد میں کمی-دکانداروں اور تاجروں پر جرمانہ اورلائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ-
افغانستان کی عوام بھی روز بہ روز بڑھتی ہوی مہنگائ کا سامنا کرہی ہے- افغانستان کے لوگوں کا اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کر تے ہوے کہنا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگ جاتی ہیں، کابل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
افغانستان کی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اسلامی امارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔
ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان میں اشیائے خوردونوش کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ غیر ملکی جنگی صورتحال کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی رسد تا خیر کا شکار ہوتی ہے جسکی وجہ سے مہنگائ جنم لیتی ہے -لہذا دکانداروں کا اس میں کوئ قصور نہیں سب کچھ تاجروں کے ہاتھ میں ہے۔
اگر تاجر وقت پر برآمدات کریں تو دکاندار زیادہ قیمتوں پر اشیا فروخت نہیں کرسکتے-
ایک مقامی رہائشئ کا کہنا تھا کہ جو دکاندار اور تاجر اپنی من مانی سے قیمتیوں میں ا ضافہ کرتے ہیں ان پر جرمانہ عائد کیا جائے اور ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ میونسپلٹیاں دکانداروں کی کارروائیوں کی نگرانی کریں -
ایک اور شہری نے مہنگائ سے پریشان ھوتے ہوے کہا کہ آٹے کا ایک تھیلا جو 1700 افغانی روپے کا ہوتا تھا، اب اس کی قیمت 2500 ہے-
افغانستان کی عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملک میں مہنگائ کی روک تھام کیلیے اقدامات کئے جایں-