حکومت نے دھمکی آمیز خط کے معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں کمیشن قائم کردیا، کمیشن تحریک عدم اعتماد میں بیرونی سازش کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گا، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سرخرو ہوئے جبکہ اپوزیشن عوام میں جانے سے گھبرا گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم ہیں اور رہیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کیا، ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ضمیر خریدنے کی کوشش کی گئی، وزیراعظم کے خلاف یہ عمومی تحریک عدم اعتماد نہیں ہے، اگر ہوتی تو ہم اسے خوش آمدید کہتے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی، کل سازش سے متعلق اصل ریکارڈ ارکان اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا، مخصوص لوگ ہیں جنہیں معلوم تھا یہ سازش کہاں بنی، دیکھا جائے گا مقامی ہینڈلز کون تھے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی اجلاس طلب کیا اور حیرت انگیز فیصلہ کیا کہ منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں جب کہ منحرف اراکین کا کیس تو سپریم کورٹ کے پاس تھا ہی نہیں، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، ہم فیصلے پر نظرثانی کے لیے عدالت جائیں گے، پارلیمنٹ کی بالادستی اب نہیں رہی، اب پارلیمان کی حاکمیت سپریم کورٹ کو منتقل ہوگئی ہے۔
تحریک انصاف کا پاکستان کے تمام اضلاع میں جلسے کرنے اور عوام کو حکومت کے خلاف سازش سے متعلق اعتماد میں لینے کا فیصلہ
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ تحریک انصاف نے عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے تمام اضلاع میں جلسے کرنے اور عوام کو حکومت کے خلاف سازش سے متعلق اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں خط میں مبینہ سازش کو پبلک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تجاویز لی گئیں۔ اراکین نے خط کی رازداری اور عدالتی حکم کی روشنی میں تجاویز دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کے بیرونی سازش کا آلہ کار بننے کو بے نقاب کر چکے ہیں، منتخب حکومت کو گرانے کے لیے بیرونی سازش کی گئی، عوام نے سب دیکھ لیا کہ سب چور ڈاکو ایک جگہ اکٹھے ہو گئے، اپوزیشن عوام میں جانے سے گھبرا گئی ہے، ہم عوام میں سرخرو ہوئے ہیں، ان کا ہر سطح پر مقابلہ کروں گا۔