عمران خان کیخلاف غداری کی کارروائی کی درخواست خارج -وکیل پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد- عمران خان اورسابق وزرا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی مسترد -
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان، یو ایس سفارتخار، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور قاسم سوری کے خلاف غداری کی کارروائی کے لئے درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی-
درخواست گزار وکیل کا کہنا تھا کہ متنازعہ خط عالمی انصاف میں چیلنج کرنے کی ضرورت تھی، لیکن عمران خان نے ایسا کرنے میں ناکام رہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 2A، 4 کی خلاف ورزی کی گئی۔
، ملوی اقبال حیدر نے مزید کہا کہ پاکستان کی یکجہتی، سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے،امریکہ کے ساتھ غیر ملکی تعلقات کو ختم کر کے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچایا۔
وکیل نے استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان، یو ایس سفارتخار، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور قاسم سوری کے خلاف سنگین غداری ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
اقبال حیدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے ایک جلسہ کے دوران ایک خط عوام کو دکھایا، ایو ایس سفارتخانہ نے متنازعہ خط کو جعلی قرار دیا ہے۔
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کو اپنا کام کرنے دیں، سیاسی مسائل کو عدالت کیوں لائے ہو، آپ نے اپنی درخواست میں استدعا کیا کی ہے،عمران خان منتخب وزیراعظم تھے،پرویزمشرف سےموازنہ نہ کریں۔
عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ، بعد محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آبادہائی کورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا -