اسلام
آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم
دے دیا، پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کا عدالتی
حکم چیلنج ،اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہیٰ نے تحریک انصاف کے 26 منحرف
اراکین کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کردیا
تفصیلات
کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات سے متعلق
کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی۔
دوران
سماعت وفاق کی جانب سے ہائی کورٹ میں کیس ملتوی کرنے کا استدعا کی گئی ،
ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے کہا کہ نئی حکومت آئی ہے ان سے ہدایت
لینی ہے ، عدالت سے استدعا ہے کیس ایک ماہ کیلئےملتوی کیا جائے۔
وکیل
درخواست گزار نے بتایا کہ توشہ خانہ گفت فروخت کر دیئے گئے ہیں، جس پر جسٹس
گل حسن اورنگزیب نے کہا 20 فیصد ادا کرکے گفٹ فروخت کرنا عجیب ہے۔
ڈپٹی
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل مستعفی ہوگئے ہیں ، وقت دیاجائے،جس
پر عدالت کا کہنا تھا کہ دیکھیں پالیسی واضح ہے اس کو کابینہ کے سامنے
اٹھایاجائے ، جو کچھ توشہ خانہ سے لیا گیا وہ سب کچھ آئندہ سماعت پر بتانا
ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے فارن فنڈنگ کیس کا
فیصلہ 30 روز میں کرنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف اسی عدالت
میں انٹرکورٹ اپیل دائر کی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے
الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کا حکم دیا جس پر
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر
کرنے کافیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے موصول ریفرنس
اسپیکرنے الیکشن کمیشن بھجوایا، ریفرنس میں آرٹیکل 63 کے مطابق 26 ایم پی
ایز کیخلاف نااہلی کی کارروائی کا کہا گیا ہے۔
26 ارکان میں عبد العلیم
خان،راجہ صغیراحمد، غلام رسول، سعید اکبر، محمد اجمل، فیصل حیات ،مہراسلم ،
خالد محمود، نذیر چوہان، نعمان لنگڑیال ، امین ذوالقرنین، محمد سلمان
،زوار حسین اور نذیر احمد کا نام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ فدا حسین ، زہرہ
بتول ، عائشہ نواز، محمد طاہر ، ساجدہ یوسف، ہارون اسلم، عظمیٰ کاردار،
ملک اسد ، اعجاز مسیح ، سبطین رضا، جاوید اختر اور محسن کھوسہ بھی منحرف
ارکان میں شامل ہیں۔