پارٹی سے
انحراف کینسر ، حلف کی پاسداری نہ کرنا بے ایمانی ہے، سپریم کورٹ کے
ریمارکس -وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی سربراہ کا
فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔
پیپلز
پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ 14 ویں ترمیم میں آرٹیکل
63 اے کو آئین میں شامل کیا گیا ، 14 ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو بہت
وسیع اختیارات تھے، الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی سربراہ کا فیصلہ مسترد کرنے
کا اختیار نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے میں چار
مواقعوں پر وفاداری کو پارٹی پالیسی سے مشروط کر دیا ہے، وفاداری بنیادی
آئینی اصول ہے، نااہلی تو معمولی چیز ہے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے
وفاداری کو یقینی بنانا ہے، تاہم ضروری نہیں جو حاصل کرنا ہے وہ آرٹیکل 63
اے سے حاصل کریں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارٹی سے انحراف پر نااہلی نہیں ہوتی، بے وفائی سخت لفظ ہے اس کا آرٹیکل 63 اے میں ذکر نہیں۔
فاروق
نائیک نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیں کہ منحرف رکن نے بے وفائی کی ہے تب
بھی ڈی سیٹ ہوگا لیکن نااہل نہیں، ڈی سیٹ ہونے والا ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے،
انحراف کی یہی سزا ہے کہ ڈی سیٹ ہو۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تو پھر
آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین سے نکال دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی شخص بدیانتی پر نا اہل ہو جائے تو وہ اگلا الیکشن کے لیے بھی نا اہل ہو جاتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ کل عدالت کے ان سوالات کے جوابات دوں گا۔ سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔