دعا اور نمرہ کے بعد کراچی سے لاپتہ ہونیوالی 25 سالہ دینار کے واقعہ کا بھی ڈراپ سین، مبینہ نکاح نامہ بھی سامنے آگیا۔کراچی سے گمشدہ ہونے والی دعا زہرہ نے عدالت میں والد کے گھر میں گھسنے اور اغوا کی کوشش کیخلاف درخواست دائر کردی
سولجر بازار کے علاقے سے رواں ماہ لاپتہ ہونے والی 25 سالہ دینار نامی لڑکی کے لاپتہ ہونے کے واقعہ کا ڈراپ سین ہو گیا۔ دینار چند روز قبل سولجر بازار کے علاقے سے لاپتہ ہوئی تھی، لڑکی کے لاپتہ ہونے پر اس کے والد دیدار علی اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے آئے تھے جس پر پولیس نے ان سے درخواست وصول کر کے اعلیٰ افسران کی ہدایت لینے کے بعد مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا۔
دلہن کی جانب سے وکیل اور گواہان کے خانے میں خودمختار درج ہے، دلہن کی تاریخ پیدائش 28 اپریل 1997 درج کرائی گئی ہے، جبکہ دلہا کی جانب سے بھی کوئی وکیل مقرر کیے گئے خانے میں خود مختار درج کرایا گیا ہے۔
شادی کے گواہان میں دو افراد کا نام درج کرایا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ نکاح نامہ سامنے آنے اور لڑکی کا اہلخانہ سے رابطہ ہونے کے بعد اہلخانہ نے اغوا کی درخواست واپس لے لی۔
کراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ نے لاہور کی سیشن عدالت میں والد کیخلاف درخواست دائرکردی ، جس میں دعا نے شادی کے بعد والد پر لاہور میں واقع گھر میں گھسنے کا الزام عائد کیا ہے۔
دعانےوالداورکزن پر اغوا کی کوشش کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ والدکزن زین العابدین سےزبردستی شادی کرواناچاہتاہے اور میں اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی۔
دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ 18اپریل کو والد اورکزن زین العابدین اچانک گھر میں گھس آئے، دونوں نے مجھے اور میرے خاوند کو دھمکیاں دیں اور مجھے میرے گھر سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اہل محلہ کے جمع ہونے پر دونوں کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ، اپنی پسند سے شادی کی ہے، خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
دعا نے لاہورہائیکورٹ میں اپنے والد کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست دی ، جس میں استدعا کی کہ عدالت نے والد اور کزن کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔
عدالت نے دعا زہرہ کوہراساں کرنے سے روکتے ہوئے پولیس کو دعا زہرہ کو ہراساں کرنے سے تحفظ دینے کا حکم دے دیا۔
اس سے قبل کراچی کی دعا زہرا کا شوہر ظہیراحمد کے ساتھ نیا وڈیو بیان سامنے آیا تھا ، جس میں دعا کا کہنا تھا کہ مرضی سے شادی کی، گھر والے زبردستی کسی اور سے شادی کروارہے تھے، عمر بھی غلط بتائی ،کسی نے اغوا نہیں کیا، اپنی مرضی سے آئی ہوں۔