تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مارشل لاء کی دھمکی دی گئی
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پولیٹیکل انجینئرنگ پر یقین نہیں رکھتے، تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے ہمیں دھمکی دی گئی کہ ہم فوراً الیکشن مانیں ورنہ مارشل آئے گا یہ دھمکی اس وقت کے حکومتی وزیر نے ہمارے ساتھی کو دی تھی۔
بلاول بھٹو نے چیئرمین پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب نے جھوٹ پر مبنی انتہائی پوزیشن اپنائی، وہ چاہتے ہیں ان کےشرائط پر الیکشن ہوں، خان صاحب ایسےحالات پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ تیسری قوت فائدہ اٹھائے۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پہلے انتخابی اصلاحات، پھر انتخابات، ہم فری اینڈ فیئر الیکشن چاہتے ہیں یہی مطالبہ پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے جبکہ آج بھی خان صاحب کی یہی اسٹریٹجی ہے کہ اصلاحات کےبغیر الیکشن کرادیں۔
اس کے علاوہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدامات کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں ، بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔
قومی اسمبلی میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، جس میں بھارت کے اگست 2019 کے اقدامات کو ایک بار پھر مسترد کردیا گیا۔