Jun 11, 2022 01:15 pm
views : 473
Location : Domestic Place
Islamabad- IMF is not happy with us, it will make more difficult decisions, Finance Minister
اسلام آباد، آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں، مزید مشکل فیصلے کریں گے، وزیر خزانہ کہتے ہیں پاکستان مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہے، ملک کو انتظامی لحاظ سے ٹھیک کرنا پڑے گا
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے، حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اقتصادی ٹیم کا بجٹ سازی میں بھرپور محنت اور کردار پر شکر گزار ہوں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں 15 فی صد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل وقت میں کھڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں بجٹ دیا ہے۔ 500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ۔ 1100ارب روپے بجلی کی مد میں سبسڈی دی، یعنی 16 روپے فی یونٹ بجلی پر سبسڈی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل وقت نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہاہوں۔
وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ گیس اور پاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے۔ وفاقی بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامناہے۔ بجلی کی قیمتوں کو متعین کرنے کا نظام خراب ہے، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوش میں نقائص ہیں، اگر انہیں درست نہ کیا تو ملک کو لے ڈوبے گا۔ ملکی معیشت اتنا بڑا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس میں 1400 ارب روپے کا سرکلر ڈیبٹ کردیا۔ 20 ڈالر کی ایل این جی منگوا کر 2 ڈالر میں فروخت کرکے نقصان کیا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کسی کی فیکٹری کو بند نہیں کریں گے۔ اگر پچھلی حکومت نے کسی کے ساتھ سستی گیس فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے تو ہم انہیں گیس دیں گے۔ ایس ایس جی میں یو ایف جی 20 فیصد ہے، اسکا ہمیں یہ بھی نہیں معلوم نہیں کہ یہ گیس چوری ہورہی ہے یا ہوا میں اڑ رہی ہے۔ہم 90 میں بنگلا دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں۔ اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جارہے۔ گیس اور پاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے، اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں۔