Jun 14, 2022 04:50 pm
views : 395
Location : Sindh Assembly
Karachi- Sindh Government presents budget for FY 2022-23
کراچی، سندھ حکومت نے 1713 ارب 58 روپے کا بجٹ پیش کردیا، بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ، کہا امپورٹڈ حکومت نامنظور، وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں آئندہ مالی سال تیتنیس ارب روپے کا خسارہ ہے
سندھ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال دو ہزار بائیس تئیس کا سترہ سو تیرہ ارب پچاس کروڑ روپے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، اس دوران اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے سخت شور شرابا کیا گیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے بجٹ کا حجم 1713 ارب 58 کروڑ روپے ہے جس میں سالانہ مجموعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 459 ارب، تعلیم کے لیے 326 ارب روپے اور صحت کے لیے 219 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے 174 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ زراعت کی بہتری پر 24 ارب روپے خرچ ہوں گے اور لوکل گورنمنٹ کے لیے 78.59 ارب روپے مختص ہیں۔
سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 459 ارب کے حجم میں سے صوبے کی 4158 اسکیموں کے لیے مقامی وسائل سے 332 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ 91.14 ارب روپے غیر ملکی فنڈز سے حاصل کیے جائیں گے۔ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 30 ارب روپے خرچ ہوں گے اور وفاق سے پی ایس ڈی پی کی میں میں 6.02 ارب روپے ملیں گے۔
بجٹ میں 256 ارب روپے مختلف مد میں سبسڈی کے لیے جب کہ 147 ارب حکومتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے لیے 13 ارب روپے، سماجی بہبود کے لیے 3.83 ارب، ورک اینڈ سروسز کے لیے 99.82 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں 5 کروڑ روپے کی لاگت سے 12 نئی عدالتیں تعمیر ہوں گی۔
صوبے میں پانی پر عائد ٹیکس آمدنی سے 374.50 ارب روپے حاصل ہوں گے جب کہ وفاق سے ٹرانسفر کی مد میں 1055.50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔