وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: منحرف ارکان کو نکال کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم, دوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائےگا۔عطا تارڑ نے کہا صعدالت نے حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار دیا اور نہ عہدے سے ہٹایا
لاہورہائی کورٹ نے یکم جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن دوبارہ کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہاکہ گورنر پنجاب یکم جولائی کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔
ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کیلئے دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے ، 25منحرف ارکان کے ووٹ نکال کر ووٹوں کی ری کاؤنٹ کی جائے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ 25منحرف ووٹ نکال کر اکثریت نہ ملی تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے تاہم حمزہ شہباز نے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں وہ کالعدم نہیں ہوں گے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نئے الیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا، دوبارہ الیکشن کاحکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہوگا ، ہم پریزائڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنےکابھی نہیں کہہ سکتے، عدالت پریزائڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب حکومت کے ترجمان عطا تارڑ کا کہنا ہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار نہیں دیا اور نہ ہی انہیں عہدے سے ہٹایا ہے۔