Jul 06, 2022 06:05 pm
views : 253
Location : domestic place
Attock- Journalist Imran Riaz Khan arrested, IHC reserved verdicts
اٹک،
صحافی عمران ریاض کی گرفتاری، کیس کا فیصلہ محفوظ،وکیل میاں علی اشفاق نے
کہا عدالت غیرجانبدارانہ فیصلہ کرکے عدالتوں پر اعتماد بڑھائیں۔عمران ریاض
نے کہا مجھے جیل بھیجا ہے تو بھیج دیں، نکل کر بھی وہی کروں گا
سینئر
صحافی عمران ریاض خان کو درخواست ضمانت کے لئے اٹک کی مقامی عدالت میں
مجسٹریٹ یاسر نواز کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے سرکاری وکیل اور
عمران ریاض کے وکیل کی جانب سے دئیے گئے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
فیصلہ
محفوظ کرنے سے قبل تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض نے اداروں
پر الزام لگائے، میں نے الزامات کی آڈیو ریکارڈنگ بذریعہ سی ڈی سنی،
مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ عمران ریاض نے اداروں پر کیا
الزامات لگائے ؟ جس پر سرکاری وکیل نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا کہ اس سوال
کا جواب میں دیتا ہوں۔
اس موقع پر عمران ریاض کے وکیل میاں علی اشفاق
نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق گوجرانوالہ
کے بعد کسی دوسرے شہرمیں ایف آئی آر نہیں ہوسکتی ، آپ غیرجانبدارانہ فیصلہ
کرکے عدالتوں پر اعتماد بڑھائیں۔
دوران سماعت گرفتار صحافی عمران ریاض نے کہا کہ مجھے جیل بھیجا ہے تو بھیج دیں، نکل کر بھی وہی کروں گا جو کررہا ہوں۔
جس
پر صحافی عمران ریاض کے وکیل میاں علی اشفاق نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایف
آئی آر میں بغیر ثبوت کے الزامات ، تصوراتی باتیں ہیں، ایک ثبوت نہیں
دیاگیا، پولیس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، پیکا کی جس شق کےتحت
گرفتارکیاگیا وہ کالعدم ہوچکی ہے۔
وکیل میاں علی اشفاق نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹیں گے تو ریاست کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔