پنجاب کے ضمنی انتخابات؛ ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری
پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی الیکشنز میں پولنگ کے دوران ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں جگہ جگہ جھگڑے ہوئے، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولنگ کے دوران بعض حلقوں میں چند ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ راولپنڈی میں پنجاڑ کے پولنگ اسٹیشن پر سیاسی کارکنوں میں لڑائی جھگڑا ہوا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیان میں کہا ہے کہ انتحابی عمل میں اگر حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ایکشن ہو گا، گڑ بڑ میں ملوث امیدواروں کی نااہلی بھی ہوسکتی ہے۔
صوبائی اسمبلی کی ان 20 نشستوں پر مجموعی طور پر 175 امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے جن میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار نمایاں ہیں۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 45 لاکھ 79 ہزار 898 ہے۔
پولنگ کے لیے 3 ہزار 131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 1900 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، ضمنی انتخاب میں امن و امان کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے 20 میں سے 9 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ 20 مئی کو الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی رکنیت ختم کردی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری پر اپنا ردِعمل دے دیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ محض عوام کوخوفزدہ کرنےاورانتخاب میں دھاندلی کےپیشِ نظرشہبازگل کی غیرقانونی گرفتاری کی شدید مذمت کرتاہوں۔یہ فسطائی حربےمؤثرثابت ہوں گےنہ ہی ہمارےلوگ اپنا حقِ رائےدہی استعمال کرنےسےبازآئیں گے۔امپورٹڈ حکومت کےسرپرستوں کو اس نقصان کااحساس ہوناچاہئیے جو وہ ہماری قوم کوپہنچارہےہیں