Jul 04, 2024 08:30 pm
views : 355
Location : Domestic Place
Islamabad- At SCO summit, PM Shehbaz raises terrorism concern while urging global engagement with Afghan govt
ہمارے چیلنجز مشترکہ
ہیں، ملکر ترقی وخوشحالی کیلئے کام کرنا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا
ہے کہ افغانستان دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے ، افغان سرزمین کسی
دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں، ہمیں مل کر ترقی وخوشحالی کیلئے کام کرنا ہے۔
قازقستان
کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب
کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے
عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہے، ہمارے چیلنجز
مشترکہ ہیں، ہمیں مل کر ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے، ایس سی او
ترقیاتی منصوبوں کیلئے متبادل فنڈنگ کا طریقہ کار وضع کرے۔
شہبازشریف کا
کہنا تھا کہ خطے کے روشن مستقبل کیلئے جغرافیائی، سیاسی محاذ آرائی سے خود
کو آزاد کرنا ہوگا ، افغانستان دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے تاکہ اس
کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ
اسلاموفوبیا اور لسانیت کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی ، ہمیں سلامتی کونسل
کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، غزہ میں انسانیت سوز مظالم
جاری ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان رواں سال اکتوبر میں ایس
سی او سربراہ حکومت کے اجلاس کی میزبانی کرے گا، پاکستان ایس سی او کو ایک
متحرک تنظیم بنانے اور اہداف کے حصول میں اپنا بھرپور کردارادا کرے گا۔
انہوں
نے مزید کہا کہ آستانہ ایک خوبصورت شہر ہے، بہترین مہمان نوازی پر مشکور
ہوں، اجلاس میں شرکت میرے لئے اعزاز کی بات ہے، آپ سے مخاطب ہو کر خوشی ہو
رہی ہے، ایس سی او کی چیئر کی حیثیت سے قازقستان نے بہترین کردار ادا کیا۔
قبل
ازیں وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت
کیلئے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں انڈیپینڈینس پیلس پہنچے جہاں
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیوف نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا استقبال
کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی ملاقات کے ابتدا میں روسی صدر کی گفتگو منظر عامر پر آگئی۔
روسی
صدر ولادیمیر پوٹن نے وزیر اعظم پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے
دوبارہ مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، دو سال پہلے ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے
ہی اجلاس کے موقع پر سمر قند میں ملے تھے، انہوں نے کہا کہ توانائی اور
زراعت کے شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں، غذائی تحفظ کے شعبے
میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔