پشاور ہائیکورٹ کا
فیصلہ کالعدم، مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا حکم ، بیرسٹر
گوہر کا کہنا ہے کہ امید ہے ہمیں ہماری سیٹیں مل جائیں گی ، ہماری سیٹیں
جمہوریت کو مضبوط کریں گی
سپریم کورٹ آف
پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار
دیتے ہوئے مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا حکم دے دیا۔
اسلام
آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا
کہ عوام کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔ سپریم کورٹ سے امید لگائے
بیٹھے ہیں۔چئیرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ یہ 25 کروڑ عوام کے
بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ امید ہے ہمیں ہماری سیٹیں مل جائیں گی۔ ہماری
سیٹیں جمہوریت کو مضبوط کریں گی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔
جسٹس
سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین
خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس
اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت
خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے
بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ 8 کی اکثریت کا فیصلہ ہے،
فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے بتایا کہ فیصلہ 5-8 کے تناسب سے ہے۔
جسٹس
منصور علی شاہ،جسٹس شاہد وحید،جسٹس عائشہ ملک، جسٹس عرفان سعادت،جسٹس اطہر
من اللہ، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اورجسٹس محمد علی مظہر نے
اکثریت میں فیصلہ دیا۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال
مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی
جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس
دیئے کہ انتخابی نشان واپس لینا سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر نہیں کر
سکتا، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت
تھی اور ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی
مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو
کالعدم قرار دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف ہے،
انتخابی نشان کا نا ملنا کسی سیاسی جماعت کو انتخابات سے نہیں روکتا،
پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے۔
سپریم کورٹ نے خواتین
اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے
کہ پنجاب،خیبرپختونخوا او ر سندھ میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دے دی
جائیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اس فیصلے کے
15روز میں اپنے مخصوص افراد کی نشستوں کے نام کی فہرست دے سکتی ہے، باقی 41
امیدوار بھی 15 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ اسی جماعت کے امیدوار
تھے۔
فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے 80 امیدواروں کا ڈیٹا جمع کروایا،
انتخابی نشان ختم ہونے سے کسی جماعت کا الیکشن میں حصہ لینے کاحق ختم نہیں
ہوتا، انتخابی نشان کا نہ ملنا کسی سیاسی جماعت کو انتخابات سے نہیں روکتا۔
عدالتی
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں
لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے۔