ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی مچھلی کے شوقین افراد بازاروں کا رُخ کرتے ہیں لیکن اس بار گرم سوغات کی قیمتوں نے عوام کے دلوں کے ساتھ جیبوں کو بھی ٹھنڈا کر دیا ہے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی مچھلی کے شوقین افراد بازاروں کا رُخ کرتے ہیں لیکن اس بار گرم سوغات کی قیمتوں نے عوام کے دلوں کے ساتھ جیبوں کو بھی ٹھنڈا کر دیا ہے۔ماہرینِ طب کے مطابق مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہیں۔ ہفتے میں کم از کم دو بار مچھلی ضرور کھانی چاہیے۔لیکن مسئلہ صرف افادیت کا نہیں، دستیابی کا بھی ہے۔دکانداروں کے مطابق رواں برس سیلاب نے مچھلی کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سیلاب، مہنگائی اور طلب میں اضافے نے مچھلی کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔جہاں ماضی میں لوگ سردیوں کی شاموں میں مچھلی کے مزے لیتے تھے، وہیں اب بہت سے لوگ صرف دیکھ کر ہی دل تسلی کر رہے ہیں۔ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ اس سال سیلاب کی وجہ سے فارم ہاؤس کے بند ٹوٹنے سے رواں برس مچھلی کا بحران رہے گا۔ نصیب والے ہی اس مرتبہ مچھلی کھائیں گے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ یہ گرم خوراک ہے، موسم گرما میں اسے کھانے کا دل نہیں کرتا موسم سرما میں اسے دل بھر کے کھایا جاتا ہے،۔