ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور پابندی کی سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور پابندی کی سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے کسی مسجد یا مدرسے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ کارروائی ایک تشدد پسند گروہ کے خلاف ہے، مذہبی جماعت یا عقیدے کے خلاف نہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مذہب کے نام پر اپنی سوچ مسلط کرنا قابلِ قبول نہیں، پاکستان میں کچھ عرصے سے انتہا پسندی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ایک مذہبی جماعت نے غزہ کے نام پر احتجاج کی کال دی جب کہ جنگ بندی ہو چکی تھی، اور اس احتجاج نے خونی شکل اختیار کر لی۔ ریاست اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان اس طرح کے احتجاج کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔حکومت پیکا ایکٹ کے تحت نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔پنجاب حکومت نے نئے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر مکمل پابندی عائد کر دی۔