ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسموگ کا راج برقرار ہے۔
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسموگ کا راج برقرار ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث نہ صرف حدِ نگاہ متاثر ہورہی ہے بلکہ شہریوں کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، شہر بھر میں اسموگ کے باعث شہریوں کو سانس، آنکھوں اور گلے کی تکالیف کا سامنا ہے۔فضا میں موجود زہریلے ذرات نے لاہور کو ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق، اسموگ کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا فضلہ اور فصلوں کی باقیات جلانا شامل ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اسموگ پر قابو پانے کے اقدامات تاحال ناکافی دکھائی دے رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں شدید جلن ہوتی ہے، شام کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے، اور دوائیوں پر پوری دھاڑی لگ جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی مؤثر اقدام کرے تاکہ ہم سکون کا سانس لے سکیں۔فضا میں اڑتے زہریلے ذرات نے لاہور کی زندگی کو دھندلا دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے شہرِ لاہور کو ایک بار پھر صاف و شفاف فضا نصیب ہو سکے۔