سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں ہے، پاکستان
span style="font-family: jameel-noori-nastaleeq; font-size: medium;">سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں ہے، پاکستان
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی سرحدی کشیدگی کے معاملے پر پاکستان نے شواہد پر مبنی مطالبات ترکیے میں ثالثوں کے حوالے کر دیے۔صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے ثالثوں کو فراہم کردہ معلومات مصنفانہ اور فتنہ الخوارج سے متعلق ہیں، ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، مصنفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں، مذاکرات کی تکمیل اور نتائج تک ہم کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کریں گے۔مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا کی انٹلیجنس افسران کی ملاقاتوں اور پیسےکی افواہیں پریوں کی کہانیاں ہیں۔چمن واقعے پر ہم افغانستان کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔