ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اسموگ نے مزدور طبقے کی زندگی بھی اجیرن بنادی ہے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اسموگ نے مزدور طبقے کی زندگی بھی اجیرن بنادی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق اسموگ کے دوران کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں میں سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔محنت کش طبقے کا کہنا ہے دھول مٹی اور آلودہ فضا میں کام کرنا نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہے۔اس حوالے سے ایک مزدور نے بتایا کہ دھول مٹی سانس کے ذریعے اندر چلی جاتی ہے، جس سے ہم اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ایک اور مزدور کا کہنا تھا کہ اسموگ کی وجہ سے مزدور پیشہ افراد کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ایک بزرگ مزدور نے بتایا کہ جب ہم بیمار پرجاتے ہیں تو گھر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ہمیں پیچھے سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔دھند، دھواں اور مٹی سے بھری اس فضا میں مزدور روزی کے لیے نکلتے ہیں مگر ہر روز ان کیلئے سانس لینا دشوار سے دشوار ہوتا جارہا ہے۔ محنت کش طبقے نے حکومت سے حفاظتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔