لاہور کا بدلتا ہوا موسم، دھوئیں سے بھری فضا اور بڑھتا ہوا اے کیو آئی
span style="font-family: jameel-noori-nastaleeq; font-size: medium;">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ لاہور کا بدلتا ہوا موسم، دھوئیں سے بھری فضا اور بڑھتا ہوا اے کیو آئی… یہ مسائل اب چیلنج بن چکے ہیں۔ اسموگ کی روک تھام کے لیے حکومت نے عملی اقدامات تو کیے ہیں، مگر عوام میں سوالات اور تحفظات بھی بڑھ رہے ہیں۔لاہور جیسے بڑے اور مصروف شہر میں سموگ کے مسئلے کا حل فوری کارروائیوں سے نہیں بلکہ طویل المدتی پالیسیوں سے ممکن ہے۔ حکومت کے پاس پلان بھی ہے، اقدامات بھی، مگر چیلنج یہ ہے کہ ان پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کیسے ہوگا۔اس حوالے سے ایک شہری کا کہنا تھا کہ حکومت تو اپنے طور پر کام کررہی ہے۔ ہمارے سننے میں آیا ہے کہ بھٹے بند بھی کئے ہیں اور بعض مقامات پر تو بھٹے گرائے بھی گئے ہیں۔ اس ضمن میں عوام کا تعاون بھی ہونا چاہیے، بڑی گاڑیاں اسموگ کا باعث بن رہی ہین، ان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں سخت سزائیں دی جانی چاہیے۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ لاہور کی پونے دو کروڑ آبادی ہے اس میں محض پندرہ ماؤذر گن کیا کریں گی جب کہ مصنوعی بارش کے اپنے مضر اثرات ہوتے ہیں تاہم نظام کو درست رکنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں آگاہی ہو، پڑوسی ملک بھارت سے ساری آلودگی یہاں آجاتی ہے یہ بھی ایک بڑا فیکٹر ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔