پھل فروشوں نے من مانے دام وصول کرنا شروع کردیئے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ کشیدگی میں اضافے کے بعد سرحدیں غیر معینہ مدت کیلئے بند رکھنے کے فیصلے کے بعد فروٹ منڈی مین پھلوں کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ پھل فروشوں نے من مانے دام وصول کرنا شروع کردیئے۔ جس کے نتیجے میں عوام کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے جبکہ پرائس کنٹرول عملہ منظر نامے سے مسلسل غائب ہے جس کی وجہ سے حکومتی لسٹوں پر پھل فروخت نہیں ہوپارہے۔ اس حوالے سے ایک پھل فروش کا کنہا تھا کہ جتنا بھی پھل آرہا تھا وہ افغانستان سے ہی آرہا تھا لیکن اب چونکہ بارڈر بند ہوگئے ہیں جس کے باعث پھل نہیں آرہا چنانچہ پھلوں کی قلت کی وجہ سے دام تو بڑھیں گے۔ مال نہ آنے کی وجہ سے منڈی بالکل خالی پڑی ہوئی ہے۔ جو کوئٹہ کا چھوٹا سیب آرہا ہے وہی بک رہا ہے۔ ایک اور پھل فروش کا کہنا تھا کہ مارکیٹ سے مہنگے داموں پھل خرید کر اسے سستے دام کیسے فروخت کرسکتے ہیں۔
br>