بصارت سے محروم افراد کا پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا گیارہوں روز میں داخل ہوگیا۔
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ بصارت سے محروم افراد کا پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا گیارہوں روز میں داخل ہوگیا۔ مال روڈ پر دھرنا مظاہرین کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ دھرنا مظاہرن نے اپنے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ بصارت سے محروم احتجاجی دھرنا مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ انہیں باعزت اور باوقار اور مستقل روزگار فراہم کیا جائے۔ دھرنا مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے دھرنے پر کھلے آسمان تلے بے یار ومددگار بیٹھے ہیں۔ حکومتی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ حکومت نے بصارت سے محروم مظاہرین کیلئے ایک ٹینٹ تک بھی فراہم نہیں کیا ہے۔ بلائنڈ ڈیلی ویجر یونین کے تحت دھرنادینے والے مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بصارت سے محروم افراد کیلئے معذوری کوٹہ میں علیحدہ ایک فیصد حصہ مختص کرنے کے احکامات جاری کیئے جائیں۔