ایم ڈی کیٹ کے طلبا سراپا احتجاج
span style="font-family: jameel-noori-nastaleeq; font-size: medium;">ایم ڈی کیٹ کے طلبا اپنے حقوق کیلئے سراپا احتجاج بن گئے۔ طلباء ایکشن کمیٹی ایم ڈی کیٹ نے اپنے حق کے حصول اور پی ایم ڈی سی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی میڈیکل کالجز میں 2025-26 کی داخلہ پالیسیوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف پریس کلب کے ساتھ احتجاج مظاہرہ کیا پی ایم اے رہنما بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ احتجاجی طلباء کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ ٹونٹی فور برابری کا فارمولا لگایا جائےجن طلباء نے پہلے ایم بی بی ایس کی سیٹیں لے لی ہیں ان کو بین کیا جائے وگرنہ2025 میں ایم ڈی کیٹ دینے والے طلباء کا حق متاثر ہوگا۔والدین بھی بچوں کیساتھ یک زبان ہوگئے۔ بولے حکومت فوری ایکشن اور طلباء کو حق دلوائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2025 میں بہتر اسکور لینے کے باوجود ان کا میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ہو پا رہا۔ اُن کے مطابق 2024 میں نسبتاً آسان ایم ڈی کیٹ ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال کے امیدواروں کی بڑی تعداد نے میرٹ لسٹ کو بھر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سال 70 فیصد داخلے 2024 کے امیدواروں کو مل رہے ہیں، جبکہ صرف 30 فیصد طلبہ 2025 کے نتائج کے ساتھ داخلہ حاصل کر سکیں گے، جو طلبہ کے مطابق سراسر ناانصافی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 3500 طلبہ کو داخلہ ملا تھا، جبکہ 2025 میں بھی 2000 طلبہ داخل ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ2024 کے مجموعی طور پر 5500 طلبہ داخلہ حاصل کر رہے ہیں، جبکہ 2025 میں صرف 1000 طلبہ کو جگہ مل رہی ہے۔
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">