اسلام آباد، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی اہم پریس کانفرنس
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد
کیا گیا۔ ایف ٹین میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے رہنماء آصف
لقمان قاضی، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری علامہ امین شہیدی اور
تحریک نوجوانان کے عبداللہ گل بھی شریک تھے۔
ملی یکجہتی کونسل نے ملک کے طول وعرض میں حالیہ دہشت گردی کی شدید الفاظ
میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے غم کا اظہار کیا
اور کہا گیا کہ پوری قوم دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندان کے ساتھ غم
میں برابر کی شریک ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات نے جہاں پاکستانیوں کو غم
میں مبتلا کیا ہے وہاں عوام کے جان ومال کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی ایک
مرتبہ پھر آشکا رہوئی ہے۔
آصف لقمان قاضی کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے
دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کو منظور ہوئے دو سال سے زائد
کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن اس پر تاحال عملدرآمد جزوی اور غیر موثر ہے۔ نیشنل
کاؤنسل ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) کا وجود عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مبہم
انداز میں وارننگ جاری کرنا نیکٹا کا مشغلہ بن چکا ہے۔ حکومت قومی سلامتی
پر عوام کا اعتماد بحال کرے۔ وزیر اعظم حقیقی معنوں میں چیف ایگزیکٹو ہونے
کا ثبوت دیں یا ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئےا ستعفیٰ دیں۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان یہ واضح کرنا چاہتی
ہے کہ دہشت گردی اور دھماکوں کا دین اسلام سے تعلق جوڑنا ایک گمراہ کن
نظریہ ہے۔
بعد ازاں ملی یکجہتی کونسل کے تحت تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا۔